GUSTAKH E SIDDIQE AKBAR
پیغامِ حق
گستاخِ صدیق اکبر کے نام،
کوئ بَدَل نہیں ، صدیقی کارناموں کا
نبی نے مانا ہے احسان اُن کے کاموں کا
وہ یارِ غار ، وہ صدیق ، وہ رفیقِ رسول
زبانِ دہر پہ چرچا ہے ان کے ناموں کا
چمک رہا ہے ہلالِ خلیفۂ اول
غُبار چڑھ نہ سکا اُس پہ اِتّہاموں کا
جہاں پہ حضرتِ صدیق جلوہ فرما ہیں
وہاں درودوں کا نغمہ ہے اور سلاموں کا
وہاں سے لیتے ہیں خیرات ، آفتاب و قمر
کہ نور ایسا ہے اُس در کی صبحوں ، شاموں کا
مَلَک وہاں گلِ فردوس لے کے آتے ہیں
وہاں ہے سلسلہ اللہ کے پیاموں کا
وہاں رسول و صحابہ کی مدحتوں کی ہے گونج
گزر نہیں ہے وہاں بے ادب کلاموں کا
اے جلنے والو ! اے نارِ جَحیم کے کُتّو !
تمہیں نصیب نہیں ساتھ، ذوالکِراموں کا
وہاں رسائ ہے بس گُل صفت نگاہوں کی
وہاں گزر نہیں تم جیسے خارفاموں کا
زبان کھولو گے تم کیا کسی کی عزت پر
کُھلا ہے بَند ، تمہارے ہی پائجاموں کا
سزا ضرور ملے گی تمہیں اہانت کی
حساب ہوگا لعینوں کا ، بے لگاموں کا
بڑوں کی عزت و حرمت پہ دیں سدا پہرا
فریدی ! ہے یہ فریضہ سبھی غلاموں کا
خار فام.. کانٹے جیسا بدن
======
از فریدی صدیقی مصباحی مسقط عمان
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें